غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا – میر خلیق

غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا

ہم آپ کے نہ آئے جب تک کہ تو نہ آیا

ساقی نے جام مے تو شب پے بہ پے دیا پر

نیت بھری نہ اپنی جب تک سبو نہ آیا

کوتاہ ہے نہایت دست دعا ہمارا

دامن اثر کا جا کر اک بار چھو نہ آیا

عاشق کو تیرے کل سے تھی جاں کنی کی حالت

سب دیکھنے کو آئے اللہ تو نہ آیا

پھونکا بھی طور و وادی بعض اے خلیقؔ لیکن

اپنی شرارتوں سے وہ شعلہ خو نہ آیا

One thought on “غفلت میں فرق اپنی تجھ بن کبھو نہ آیا – میر خلیق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *